سرائیکی ثقافت کی جڑیں ہزارہا سال تاریخ میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس ثقافت کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ سنسکرت عربی فارسی ہندی اور سندھی سے اس نے قلیل اثر قبول کیا ہے۔ اور اپنی شناخت کو قائم رکھا ہے۔ ورنہ کتنی بولیاں ماضی کے گرد کا حصہ بن گئی ہیں۔ اور دائمی مٹ گئی ہیں ۔ دور حاضر میں ماضی کے اس عظیم ورثے کی ترویج میں بے شمار ایسے حقائق ہیں جنہوں نے لوک ریت ،ثقافت و موسیقی کو عوام سے پیوست رکھا۔ اسے سلسلے میں دوسرے پہلوؤں کو اس بحث سے خارج کر کے آواز کی دنیا تک مخصوص کر دیتے ہیں۔60 کی دہائی میں سرائیکی ادب و ثقافت کی مقبولیت کا آغاز ہوا اور آواز کی دنیا میں تھیٹر ،فلم،ریڈیو اور ٹی وی کا بڑا عمل دخل ہے۔ 1970ء میں ملتان سے براڈ کاسٹنگ کا آغاز ہوا تو آوازوں نے نظام دین کے بعد بے پناہ مقبولیت حاصل کی ، ایک آواز ملک کی اور دوسری آواز مہرصاحب کی ۔یہ دو آوازیں اپنی حلاوت ، طنزو مزاح اور عوام کی مزاج کی وجہ سے راتو ں رات مقبول عام ہوگئی ۔سرائیکی وسیب کے آرٹ کے لیے ترسے لوگوں کوان آوازوں نے شعور پیدا کیا اور لسانی وابستگی کا سلیقہ سکھایا۔یہ آوازیں کن کی تھیں؟ اس باب میں مہر کا کردار شمشیر حیدر ہاشمی کرتے تھے اور ملک کا کردار عزیزالرحمان نے کیا۔







0 comments:
Post a Comment