Feature Top (Full Width)

Ads

This is default featured slide 1 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 2 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 3 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 4 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

This is default featured slide 5 title

Go to Blogger edit html and find these sentences.Now replace these sentences with your own descriptions.This theme is Bloggerized by Lasantha Bandara - Premiumbloggertemplates.com.

Wednesday, 3 September 2014

سرائیکی ثقافت میں دو آوازوں کا کردار ۔۔۔؟


سرائیکی ثقافت کی جڑیں ہزارہا سال تاریخ میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ اس ثقافت کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ سنسکرت عربی فارسی ہندی اور سندھی سے اس نے قلیل اثر قبول کیا ہے۔ اور اپنی شناخت کو قائم رکھا ہے۔ ورنہ کتنی بولیاں ماضی کے گرد کا حصہ بن گئی ہیں۔ اور دائمی مٹ گئی ہیں ۔ دور حاضر میں ماضی کے اس عظیم ورثے کی ترویج میں بے شمار ایسے حقائق ہیں جنہوں نے لوک ریت ،ثقافت و موسیقی کو عوام سے پیوست رکھا۔ اسے سلسلے میں دوسرے پہلوؤں کو اس بحث سے خارج کر کے آواز کی دنیا تک مخصوص کر دیتے ہیں۔60 کی دہائی میں سرائیکی ادب و ثقافت کی مقبولیت کا آغاز ہوا اور آواز کی دنیا میں تھیٹر ،فلم،ریڈیو اور ٹی وی کا بڑا عمل دخل ہے۔ 1970ء میں ملتان سے براڈ کاسٹنگ کا آغاز ہوا تو آوازوں نے نظام دین کے بعد بے پناہ مقبولیت حاصل کی ، ایک آواز ملک کی اور دوسری آواز مہرصاحب کی ۔یہ دو آوازیں اپنی حلاوت ، طنزو مزاح اور عوام کی مزاج کی وجہ سے راتو ں رات مقبول عام ہوگئی ۔سرائیکی وسیب کے آرٹ کے لیے ترسے لوگوں کوان آوازوں نے شعور پیدا کیا  اور لسانی وابستگی کا سلیقہ سکھایا۔یہ آوازیں کن کی تھیں؟ اس باب میں مہر کا کردار  شمشیر حیدر ہاشمی کرتے تھے اور ملک کا کردار عزیزالرحمان نے کیا۔ 

ثانیہ مرزا اور شعیب ملک کی شادی


پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ٹینس کی دیوی بھارتی اسٹار ثانیہ مرزا کی شادی کی خبر نے ناقدین کو ماہرین کو کافی پہلوؤں سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ ایک طرف ثانیہ مرزا کو پاکستانی بہو بننے پر سخت تنقید کا سامنا ہے تو دوسری طرف اس کے پرستار جغرافیائی حدود و قیود سے آزاد اس کی زندگی میں خوشیاں کی بہاریں دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ثانیہ مرزا امن کی آشا کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی ہیں۔ امن کی آشا مہم کےبارے میں معروف گلوکار کیلاش کھیریوں کہتے ہیں کہ" دو ممالک کی ذاتی زندگی کے تعلقات دو مختلف موضوع ہیں۔ تاہم کسی فرد کی ذاتی زندگی میں شانتی اور سکون کا آن دوممالک کے درمیان امن و امان کو قائم کر سکتا ہے۔ سرحد کے دونوں پار عوام بڑی حساس ہوتی ہے۔ثانیہ جن حالات سے گذر رہی ہے۔ اس پر تبصرہ کرنا بہت مشکل ہے۔

پاکستانی صحافی کے لیے بھارتی اعزاز

Rema Abbasi

پاکستانی خاتون صحافی ریماعباسی جو امن کی آشا کی سابق رابطہ کار بھی ہیں انہیں حال ہی میں ہونے والے دہلی میں ہونے واےپانچویں راجیو گاندھی ایکسیلینس ایوارڈ کی تقریب میں سال کی بہترین ادبی شخصیت کا ایوارڈ دیا گیاہے۔ ان کی کتاب کا دیباچہ ممتاز بھارتی صحافی جاوید نقوی نے لکھا۔

ہلاک شدہ بھارتی ماغی گیر کی لاش جند از جلد بھارت بھیجی جائے


پاکستان اور بھارت کے سیاسی اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 24 جولائی 2014ء کو جیل میں ہلاک ہونے والے ماہی گیر کی لاش واپس بھارت بھیجی جائے۔بھارتی ماہی گیر کا نام بالا نارئن سنگڈے ہے اور اس کا  تعلق بھارتی گجرات کے گاؤں ساناری سے ہے۔پاکستان فشر فورم کے مصطفی گرگازی نے سرحد کے دونوں جانب وکلاء سے ملاقات کر کے ان پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں کاغذی کاروائی جلد از جلد مکمل کر لیں۔بھارتی ذرائع سے معلوم ہواہے کے بھارتیہ ہائی کمشن کو سنگڈے کی موت کے بارے میں 28 جولائی  کو مطلع کردیاگیا تھا۔

بھارت میں عالی شان پاکستان نمائش


پاکستان کی ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 11 سے 14 ستمبر تک دہلی میں پرگتی میدان میں پاکستانی طرز زندگی پر مبنی عالیشان پاکستانی نمائش کے دوسے ایڈیشن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نمائش میں پاکستان کی انتہائی معیاری مصنوعات جن میں ٹیکسٹائیل مصنوعات ، فرنیچر ، انجینرنگ کا سامان ،دستی مصنوعات ، جیولری، ماربل کی مصنوعات سر فہرست ہیں۔ان میں بعض انتہائی اہم برانڈ بھی شامل کیے گئے ہیں۔اور اس نمائش میں پاکستانی کم و بشن 600 تاجر حصہ لے رہے ہیں۔اس نمائش کے ذریعے پاکستانی مصنوعات بھارت کو برآمد کرنے اور بھارت میں اپنی مارکیٹ کی وسیع نمائش کرنے کا موقع ملے گا۔ اس موقع پر موسیقی کی ایک شام اور ایک آرٹ شو کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ پاکستانی شف بھی اپنے فن کا مظاہرہ بھی کریں گے۔اور ممتاز بھارتی تجارتی ادارے اسے نمائش میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

آمن کی آشا



پاکستان اور بھارت کے مذاکرات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جو دونوں ملکوں کے لیے انتہائی اہم اور خوش آئیں ہے۔ اور برصغیر میں قیام امن کے لیے انتہائی ضروری ہے کے امن کی آشا کو فروغ دیا جائے اور اس پر کام کیا جائے تاکہ ہم اس خطے میں ہمیشہ کے لیے امن کو فروغ دے سکیں اور ہماری قومیں ہمیشہ کےلیے اس خطہ میں سکون کی زندگی بسر کر 
سکیں۔